بانی تحریک آزادی جموں و کشمیر جناب مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان

(حیات و خدمات: ایک طائرانہ نظر)

تاریخ و جائے پیدائش: ۱۲ اپریل ۱۹۲۴ء موضع غازی آباد ضلع باغ (پونچھ)۔

ولدیت: سردار عبداللہ خان

تعلیم: والد گرامی کی برٹش انڈین آرمی میں تعیناتی کے باعث برصغیر کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے نمایاں حیثیت میں میٹرک پاس کیا۔

ملازمت: میٹرک پاس کرنے کے بعد برٹش انڈین آرمی کی انجینئرنگ بٹالین میں ملازمت اختیار کر لی۔

مشاہدات و تجربات: ۱۹۴۳ء کے دوران بحیرہ روم کے مشرقی حصہ میں فلسطین کی عسکری نقل و حرکت اور اسرائیلیوں کی فلسطین میں دوبارہ آباد کاری کے صیہونی نظریے کا شروع سے انتہائی باریکی سے مطالعہ کیا۔

ملازمت سے استعفیٰ: ۱۹۴۷ء کے اواخر میں فوج کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور گھر واپس آ کر اپنی فوجی ملازمت کے دوران حاصل کئے گئے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے ۱۹۴۷ء میں تحریک آزادی کشمیر کو عسکری سطح پر منظم کیا۔

جہاد آزادی ۱۹۴۷ء: جب ڈوگرہ حکمران نے تقسیم برصغیر کے تین جون کے پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے سے انکار کر دیا تو ۲۲ سالہ نوجوان (مجاہد اول) نے ۲۳ اگست ۱۹۴۷ء کو تاریخی پہاڑ “نیلہ بٹ” کی چوٹی سے جہاد کا آغاز کر دیا جس کے باعث ریاست جموں و کشمیر کا ۳۲۰۰۰ مربع میل کا علاقہ آزاد ہوا جو آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کہلاتا ہے۔

مجاہد اول کا خطاب:

مسلح جدوجہد کے آغاز کے اعتراف کے طور پر کشمیری قوم نے انہیں مجاہد اول کے خصوصی خطاب سے نوازا۔

آزاد کشمیر بٹالین کی تشکیل:

انہوں نے پہلی آزاد کشمیر بٹالین کی تشکیل کی جس نے ان کی زیر کمان چھمب جوڑیاں بریگیڈ کی صورت اختیار کی جو تاریخ کی کتب میں “قیوم بریگیڈ” کے نام سے درج ہے۔

سیاسی سفر کا آغاز:

اس وقت جب رضا کار جنگجوؤں کو باضابطہ فوج کی شکل دی جا رہی تھی انہیں میجر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ لیکن یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جنگ بندی کے اطلاق کے فوراً بعد انہوں نے فوج کی باضابطہ ملازمت سے مستعفیٰ ہو کر دے دیا اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔

سیاسی پروفائل:

☆ تحریک آزادی جموں و کشمیر ۱۹۴۷ء، ۱۹۴۹ء کے بانی رہنما۔

☆ جنگ بندی لائن کے اس پار آزاد کشمیر کی طرف سے حق خودارادیت کی پہلی کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے۔

☆ ۱۹۵۲ء میں آزاد کشمیر کے وزیر بنے۔

☆ جنگ بندی لائن عبور کرنے کی پاداش میں ڈیڑھ برس تک جیل میں رہے۔

☆ ۱۹۵۶ء میں مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل نے آزاد کشمیر کا صدر منتخب کیا۔

☆ ۱۹۷۲ء میں لوکل باڈیز کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔

☆ ۱۹۷۵ء میں حق بالغ رائے دہی کی بنیاد پر چار سال کے لئے آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔

☆ ۱۹۷۹ء میں ورلڈ مسلم لیگ (رابطہ عالم اسلامی) کی مکہ مکرمہ سعودی عرب کی قانون ساز کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔

☆ ۱۹۸۵ء میں قانون ساز اسمبلی نے آزاد کشمیر کا صدر منتخب کیا۔

☆ ۱۹۹۰ء میں پانچویں مرتبہ آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔

☆ ۱۹۹۱ء میں آزاد کشمیر کی صدارت سے مستعفیٰ ہو کر دے دیا اور اسمبلی نے وزیراعظم منتخب کیا۔

☆ ۱۹۹۶ء میں ممبر قانون ساز اسمبلی اور قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے۔

☆ ۲۰۰۱ء میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔

☆ ۲۰۰۲ء میں صدر پاکستان کی نیشنل کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تعینات ہوئے۔

☆ چودہ مرتبہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر منتخب ہوئے۔

☆ ۲۰۰۳ء کے بعد تا دم واپسی مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ کی حیثیت سے جماعت کی راہنمائی فرماتے رہے۔

سیاسی و نظریاتی خدمات:

☆ ۱۹۵۸ء میں جنگ بندی لائن توڑنے کی پاداش میں اپنے لیڈر چوہدری غلام عباس اور سینکڑوں دوسرے کارکنان سمیت گرفتار ہوئے اور تین ماہ تک جیل میں رہے۔

☆ ۱۹۶۵ء میں جنگ کے دوران رضا کاروں کی فراہمی کو یقینی بنایا، محاذ جنگ پر گولہ بارود اور راشن پہنچانے میں مدد کی۔

☆ ۱۹۶۸ء میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جواب میں “تحریک المجاہدین” کے نام سے خالصتاً مقامی لوگوں پر مشتمل اور مقامی حمایت سے ایک تحریک کا آغاز کیا۔

☆ ۱۹۷۱ء میں ڈھاکہ فال کے بعد ملک میں سیاسی و نظریاتی عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے آزاد کشمیر کے صدر کی حیثیت میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان” کو آزاد کشمیر کے آئین میں شامل کر کے اسے قانونی تحفظ دیا۔

☆ اردو کو آزاد کشمیر کی دفتری زبان کا درجہ دیا اور قومی لباس شلوار قمیض کو سرکاری اور قومی لباس قرار دیا۔

☆ قائداعظم کے اس فرمان کی تائید میں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیری قوم کے نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان” کو ایک نظریاتی نعرے کی صورت میں متعارف کرایا۔

☆ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر قادیانیت کی یلغار کے سامنے ایک ایسا بند باندھا جس پر بعد ازاں حکومت پاکستان کو بھی عمل کرنا پڑا۔

☆ ۱۹۷۵ء میں جب پاکستان کی حکومت اور حزب اختلاف کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ڈیڑھ برس تک جیل میں رکھا۔

☆ حکومت نے ان سے رسائی قائم کی تو انہوں نے نہایت کامیابی سے ہر دو فریقین کو مذاکرات کے میز پر لا کھڑا کیا۔ ان کے اس قائدانہ کردار کے باعث انہیں ملکی اور عالمی سطح پر معاملہ فہم کا خطاب حاصل ہوا۔

دانشور اور ناشر کا کردار:

انہوں نے جدوجہد آزادی، سیاست، معرفت، روحانیت اور مذہب کے عنوان پر اردو اور انگریزی میں درجنوں کتب تخلیق کیں جن میں کشمیر بنے گا پاکستان، مقدمہ کشمیر، اچھی حکمرانی، فتنہ انکار سنت اور اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم کتب شامل ہیں۔

تقاریر اور لیکچرز:

ملکی اور عالمی سطح کے اعلیٰ فورمز پر درجنوں لیکچرز دیئے اور تقاریر کیں۔

اہم شخصیات اور اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں:

متعدد اعلیٰ شخصیات اور سرکاری حکام سے نجی اور سرکاری حیثیت سے ملاقاتیں کیں جن میں اردن کے شاہ حسین، سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید، چین کے معروف لیڈر مسٹر لی اوشائو چپی، لیبیا کے کرنل معمر قذافی، فلسطین کے یاسر عرفات، انڈونیشیا کے نکلو عبد الرحمن اور ملائیشیا کے صدر مہاتیر محمد شامل ہیں۔

عالمی سطح پر پذیرائی:

☆ عالمی سطح پر ان کی گراں مایہ خدمات کے پیش نظر امریکہ کے بائیو گرافیکل انسٹیٹیوٹ نے انہیں Man of the year 1998 کا خطاب دیا۔

☆ امن کے لئے ان کے دنیا بھر میں کردار کے اعتراف میں ایڈیٹوریل بورڈ آف وال سٹریٹ جرنل نیو یارک نے انہیں ۱۹۹۸ء میں دو مرتبہ مدعو کیا۔

سفر آخرت:

تقریباً پون صدی تک ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر طلوع رہنے کے بعد ایک طویل علالت کے بعد دس (۱۰) جولائی ۲۰۱۴ء کو صبح اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون